لیاری میں علمی اور ادبی تقاریب ایک بار پھر عروج پر

تحریر: رمضان بلوچ

آج ہم دو بہت ہی اہم شخصیتوں کی بات کرینگے جن کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ایک تو ہمارے “قدیمی” دوست ڈان والے لطیف بلوچ صاحب ہیں لیکن ان کاذکر ہم بعد میں کرینگے۔

دوسری شخصیت اردو اور بلوچی زبان کے نوجوان معروف شاعر اسحاق خاموش ہیں جن کے ساتھ لیاری کے قدیم علاقہ کلری علی محمد محلہ کے نوجوان طلبا اور طالبات نے اپنی ادبی تنظیم Students Wings کے پلیٹ فارم سے شام منائ۔ یہ تقریب بغدادی یوسی ہال میں منعقد ہوئ اور تقریباً چار گھنٹے تک بغیر کسی بریک کے جاری رہی۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں حاظرین ذوق و شوق اور دلچسپی کے ساتھ آخر تک وہاں موجود رہے۔

اس تقریب کے دو حصے تھے۔ پہلے سیشن کی نظامت تنظیم کی اکیڈیمک سیکریٹری ایک طالبہ (نام ذہن میں نہیں رہا) نے کی جس میں وحید نور۔ ضیا بلوچ۔ شرف شاد نے اسحاق خاموش کی شاعری میں بلند معیار اور ان کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔

دوسری نشست میں بلوچی زبان میں مشاعرہ ہوا جس میں خاص مہمانوں سینیر بلوچ شاعر اصغر آزگ اور ظفر کریم۔ نامور گلوکار استاد نور محمد نورل کے علاوہ کئ اور نوجوان شاعروں نے اپنے کلام سناکر حاضرین سے داد و تحسین حاصل کی۔ اسحاق خاموش نے آخر میں اپنی “خاموشی” توڑی اور Students Wings کے نوجوان منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اپنے خاص خاص اشعار بھی سنائے۔ اس نشست کو نوجوان سانی سید نے بڑے خوبصورت انداز میں کنڈکٹ کیا۔

اس “شام” کو لیاری کے ادیب و شاعروں و فنکاروں کے علاوہ بلوچستان کی ادبی اور صحافتی شخصیتوں نے بھی رونق بخشی جن میں گلزار گچکی۔ ساجد نور۔ اکبر ظفر اور بہرام بلوچ نمایاں تھے۔

Lyariاب چلتے ہیں اپنے لطیف بلوچ صاحب کی طرف جو انگریزی روزنامہ ڈان میں تیس سال صحافتی زندگی گزارنے اور ہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارہ کی تشکیل کے باوجود ابھی تک نہیں تھکے۔ پچھلے ہفتہ انہوں نے اپنے علاقے میں ایک Book Readers Club قائم کرکے ایک لائبریری قائم کردی۔

آج ہم کتابوں کے شوقین ظہورالحسن بلوچ کے ساتھ نئ لائبریری پہنچ گئے جو بغدادی میں فدا حسین شیخا روڈ پر واقع ہے۔ چند ساعتوں کے لئے ہم بھی ریڈرز بن گئے اور اس لائبریری کی کئ سو کتابوں کو الٹتے پلٹتے رہے۔

لطیف صاحب نے بتایا کہ زیادہ کتابیں ان کی اپنی ہیں۔ باقی دوستوں نے ڈونیٹ کی ہیں۔ ریڈرز کلب کے قائم کرنے کا مقصد نوجوانوں کو پڑھنے کی ترغیب دینا۔ نصابی کتابوں کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی کتابیں پڑھنے کو ان کی عادت بنادینا اور انہیں اسی قسم کا علمی ماحول فراہم کرنا ہے۔

لطیف بلوچ صاحب کا یہ قدم واقعی قابل تعریف ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اپنے نوجوانوں کو کتابیں پڑھنے کی جانب مائل کریں۔

اگر آپ کے پاس کافی ایسی کتابیں ہیں جو آپ کئ بار پڑھ چکے ہیں اور اب سوچ رہے ہیں ان کتابوں کا کیا کریں تو جناب! بلا تامل اکھٹا کرکے ان کتابوں کو Book Readers Club یا کسی قریبی لائبریری میں پہنچائیے۔ یہ قدم چھوٹا ہی سہی لیکن نوجوان نسل کو علم و شعور کی طرف لے جانے کے لئے بہت بڑی خدمت ہے۔

FROM LYARI WITH LOVE

اپنا تبصرہ بھیجیں