ڈاکٹر رافع، لیاری والوں کے مسیحا، اب ہم میں نہیں رہے

تقسیم۔ہند سے ایک سال پہلے کی بات ہے جب انڈیا کے صوبہ بہار کے ضلع پٹنہ میں ہندومسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ وہیں سے متاثر شدہ مسلم خاندانوں کی ایک کھیپ بے سروسامانی کی حالت میں کسی طرح کراچی شہر پہنچی۔

مقامی باشندے جن کی اکثریت لیاری ندی کے کنارے پرانی بستی لیاری میں رہائش پذیرتھی ان بہاریوں کے لئے کافی ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے۔ شہری انتظامیہ نے اس بستی کے معززین کی مدد سے لیاری کے مغربی حصہ میں ان بہاری مہاجرین کو ان کے رہنما مولانا عبدالقدوس بہاری کی قیادت میں ایک وسیع میدان میں بسانے کا منصوبہ تیار کیا۔ اس طرح بہار کالونی کا علاقہ وجود میں آیا جہاں پاکستان بننے کے بعد بھی بہار سے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

ایک ایسا وقت آیا کہ بہار کالونی میں آبادی کے لئے مزید گنجائش باقی نہیں رہی جبکہ دو تین سو بہاری خاندانوں کو مزید آباد کرنے کی ضرورت تھی۔ اس موقع پر مقامی لوگوں کے تعاون سے چاکیواڑہ اور آٹھ چوک کے درمیان ایک وسیع اراضی کو باقی ماندہ مہاجرین کے لئے مخصوص کیا گیا۔ اس علاقہ کا نام بہاری اسٹریٹ رکھا گیا۔ ان نئے مہاجرین میں ایک تعلیم یافتہ نوجوان بھی تھا جو بعد میں ڈاکٹر حنان کے نام سے مشہور ہوا۔

1952-53 میں ڈاکٹر حنان کے رشتہ داروں کا ایک گھرانہ بھی وہیں آکر بس گیا۔ اس گھرانہ میں رافع نام کا ایک نوجوان بھی تھا جو بہار میں سائنس کا طالبعلم تھا لیکن فسادات کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کراچی چلا آیا۔

رافع ایک محنتی نوجوان تھا جس کے دل میں آگے بڑھنے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کا جذبہ موجزن تھا۔ آخر کافی جدوجہد کے بعد وہ ڈومیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کے ساتھ کامیاب ہونیوالوں میں ڈاکٹر ادیب رضوی۔ ڈاکٹر بدر صدیقی اور ڈاکٹر رحمت اللہ بھی شامل تھے۔

اسی دوران میں ڈاکٹر حنان نے اپنے گھر کے فرنٹ سائیڈ پر ڈینسو روڈ کی جانب ایک کلینک شروع کی جو خاصی چل پڑی۔ ڈاکٹر رافع اسی کلینک میں ڈاکٹر حنان کے اسسٹنٹ بن گئے۔ 60 کی دہائ کے اوائل میں ڈاکٹر حنان اپنی کلینک ڈاکٹر رافع کے حوالے کرکے لندن چلےگئے اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔

جب حنان کلینک کو رافع کلینک کی صورت میں “نئ زندگی” ملی تو پھر ڈاکٹر رافع اور لیاری کی مقامی آبادی کی آپس میں انسیت اور محبت کی ایک ایسی تاریخ رقم ہوئ کہ دنیا دیکھتی رہ گئ۔ مشکل ہی سے لیاری کا ایسا گھر ہوگا جس کا کوئ فرد کبھی ڈاکٹر رافع کا مریض نہ ہو۔ رات گئے تک رافع کلینک میں کافی رش رہتا تھا۔

ڈاکٹر رافع اپنے شعبے میں کافی مہارت رکھتےتھے۔ اگر چاہتے تو اپنے دیگر ساتھی ڈاکٹروں کی طرح شہر کے مرکزی اور تجارتی علاقوں میں پریکٹس کرکے اپنا معیار زندگی بہت بلند رکھ سکتے تھے لیکن انہوں نے لیاری جیسے علاقہ کو ترجیح دی اور اپنی تمام زندگی یہیں گزاردی۔

طبعاً ڈاکٹر رافع ایک ہنس مکھ آدمی تھے۔ ان کے ہنسنے (بلکہ قہقہہ لگانے) کا انداز الگ اور منفرد تھا۔ وہ مریضوں سے اس طرح شفقت سےپیش آتے تھے جیسے وہ ان ہی کے گھر کے کوئ فرد ہوں۔ اس قسم کے دلآویز رویہ سے مرض آدھا رہ جاتا تھا۔ کراہتے ہوئے ہوئے مریض ڈاکٹر صاحب کے پریکٹس روم میں داخل ہوتے اور جب وہاں سے نکلتے تو ان کا چہرہ روشن اور لبوں پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔

ڈاکٹر صاحب نے تمام مقامی زبانیں سیکھ لی تھیں اس لئے مریضوں سے بلوچی۔ سندھی اور کچھی زبانوں میں روانی کے ساتھ بات چیت کرتے تھے۔ وہ غریب پرور تھے۔ فیس ان کی ویسے بھی واجبی سی ہوتی تھی لیکن مستحق مریضوں کے لئے اپنی جیب سے پیسے دے کر باہر اسٹور سے دوائیں مہیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر رافع نےجب کراچی کی قدیم بستی لیاری میں قدم رکھا تھا تو اس وقت وہ نوخیز نوجوان تھے۔ انہوں نے جوانی سے بڑھاپے کا سفر یہیں شروع کیا اور یہیں ختم کیا۔

دوسری جانب مقامی لوگ بھی ان سے محبت کرتے اور ان کو اپنا ہی سمجھتے تھے۔ چند سال پہلے جب ڈاکٹر صاحب کی طبیعت خراب رہنے لگی تو یہ بات ان کے خاندان کے علاوہ مقامی لوگوں کے لئے بھی تشویش کا باعث بنی۔ پھر ایسا وقت آیا کہ وہ کمزور ہوتے گئے۔18 اگست 2018 کو خبر آئ کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے تو لیاری میں واقعی سوگ کا سماں رہا۔

یہ محبت کے سلسلے جاری رکھنے اور انسانی بنیادوں پر سوچ و فکر کو اپنانے کا عمل ہی انسانیت کا عالمگیر پیغام ہے۔

FROM LYARI WITH LOVE
رپورٹ مرتبہ ۔ رمضان بلوچ