با اختیاری صرف مرد کی کیوں؟

تحریر: اسماء بلوچ

عورت، ویسے تو چار حرف ادا کرنے میں بہت آسان لیکن اسکی زندگی اتنی ہی مشکل.

مشکل تھی، نہ ہے، بلکہ مشکل بنا دی گئ ہے. پیدا ہوتے ہی گھر میں رونق بکھیرتی، ہسنتی کھیلتی پری جیسی کبھی بابا کی رانی، ماما کی گڑیا اپنی مسکراہٹ سے رنگ بکھیرتی.

وقت گزرتے ساتھ اسکے بچپن کو چھین کر گھر کی چار دیواری میں قید کر دیتے ہیں کہ اب تم بڑی ہوگئی ہوں باہر نہیں جاؤگی.

اسکا ہنستا کھیلتا بچپن چھین کر ایک لمبی سی چادر اسکی گردن میں پھانسی کے پھندے کی طرح ڈال دیتے ہیں اور بڑے فخر سے اس بات سے مطمئن ہوتے ہیں کہ اب اسکا لگام ہمارے ہاتھ میں ہیں.

سب سے پہلے اسکا امتحان بیٹی کے روپ میں لیا جاتا ہے.
تعلیم سے دور رکھ کر اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کہ پڑ ھنے کے بجائے چولہا چوکہ سنبھالے.
اگر زیادہ تعلیم حاصل کرلی تو ٹیچر بننے کو اولین ترجیح دیتے ہوے مشورے کے انبار لگ جاتے ہیں.
اسکی زندگی میں اسکا فیصلہ لینا جیسے گناہ ہو.
اسکے جوان ہوتے ہی اسکے بڑھاپے کے خیال سے ازدواجی زندگی کے فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں.
امی اپنے رشتہ داروں میں کرنے کی خواہشمند اور باپ اپنے جیسے اسکی مرضی معنی نہیں رکھتی .
یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں یہ اپنے فیصلے خود کیسے کریگی. یہ کمسن ہے. ارے کمسن ہے تو شادی کیوں کرواوگے.

وہی صدیوں کا ایک ہی ڈائلاگ
ہم نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے.
پھر اس جگہ سے رخصت ہوکر کسی اور کے گھر
۲۰% لوگ عورت کو برابر کا درجہ دیتے ہیں اور آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں.
لیکن جہاں نہیں دیتے وہاں اس ننھی پری‌(جو کہ اب عورت بن چکی ہوتی ہے) کا کسی اور کےگھر امتحان شروع ہوتا ہے، بیوی کے روپ میں.
اب اچھی بیوی بننے کیلئے قربانیاں دینے لگتی ہے لیکن ملتا کچھ بھی نہیں
مرد کی مرضی کے مطابق پہنے، اوڑھے،کھائے پیے.
اسکی اجازت ہو توکسی سے بات کرےنہ ہو تو نہ کرے.

صبح سے اٹھ کردن بھر گھر میں خاطر تواضع کرے، کھانا بنائے، کپڑے دھوئے .

پھر ماں کے روپ میں اسکا امتحان شروع ہوتا ہے.
۹ مہینے درد تکلیف برداشت کرکے ساری زندگی قربان کردے.
ان سب کے بدلے تم نے اسے کیا دیا ؟؟؟؟؟
پیدائش سے قبر تک اسکی زندگی کو زنجیر میں باندھتے رہے
اڑنے کے بجائے پروں کو کاٹ دیا
اپنے ساتھ کھڑا کرنے کے بجائے کوسوں میل پیچھے چھوڑ دیا
کبھی غیرت کے نام پہ مارا
کبھی بولنے سے روکا
کبھی ہسننے پہ ٹوکا
اسکی سوچ کو وسیع ہونے سے پہلے اسکو زنجیروں میں جکڑ کر عورت کے نام کو سامنے رکھتے ہوئے کمزور کہہ کر سولی پہ چڑھا دیا اور خود تماشائی بن گئے.

info@hamralyari.com تحریر کے بارے میں رائے اور دیگر سوالات کے لیے ہمیں لکھئے