شادی

Art by: Uzma Haya Baloch

تحریر: اسماء بلوچ
آرٹ: عظمیٰ حیاء بلوچ
شادی ایک سماجی ضرورت ہے لیکن ہمارے محکوم طبقات کے سماج میں شادی کو ایک اہم فریضہ کی طرح سمجھ کر جلد سے جلد سبکدوش ہونا چاہتے ہیں خاص کر لڑکی کی شادی میں.

بچوں کے پیدا ہوتے ہی انکے شادی کے خیال ہمارے ذہنوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں. بچپن ہی سے خاندان میں ہی شادی کا فیصلہ کر دیتے ہیں اور بچوں کے زہن میں ایک خیالی رشتے کی ڈور کو پروتے رہتے ہیں اور شادی کے رشتے کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوئے بھی وہ لژکا اس لڑکی کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتا ہے.

لڑکا چاہے جیسا ہی کیوں نہ ہوں لیکن لڑکی لمبے بال والی ہوں رنگ صاف ہوں اگر لڑکا جوان ہوکر انکار کردے تو اسکے گھر والے بڑے فخر سے یہ کہ دیتے ہیں کہ ہمارا بیٹا راضی نہیں ہیں اور بڑے دھوم دھام سے اپنے بیٹے کی شادی کہیں اور کروا دیتے ہیں اور اگر لڑکی منع کردے تو عموماً خاندان کے بزرگ لڑکے اور لڑکی کی سوچ اور مزاجوں کے فرق کو بالائے طاق رکھ کر اپنی بزرگی کواہمیت دے کر ان کی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کرتے ہیں.

اکثر لڑکیاں ماں باپ کے فیصلے کی عزت کرتے ہوئے رضامند ہو جاتی ہیں لیکن شادی سے پہلے لڑکے سے بات کرنا دور کی بات ہیں اسے دیکھنے تک کی اجازت نہیں ہوتی اور کچھ عرصہ بعد وہ مجازی خدا کہلانے لگ جاتا ہے.

اکثر اوقات پڑھی لکھی لڑکیوں کی شادی ایسے لڑکوں سے کردی جاتی ہیں جو فکری طور پر ۱۰ برس اس سے پیچھے کیوں نہ ہوں
محض اسلیۓ کہ وہ اچھا کماتا ہے اور ہماری بیٹی کو خوش رکھے گا ہم خوشی کو تنخواہ کے ترازو میں تولتے ہیں ان دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع اور وقت ہی نہیں دیتے جسکے نتیجے میں شادی کے بعد لڑکے کی فطرت، رہن سہن، خیالات اور عادات سامنے آنے لگتی ہیں.

کچھ کان کے کچے اور شکی مزاج نکلتے ہیں جس کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑتا ہے جسکا قصور کچھ بھی نہیں ہوتا. ہاں ایک قصور ضرور ہوتا ہے، وہ یہ کہ وہ کمزورہوتی تو نہیں پر خود کو کمزور سمجھ بیٹھتی ہے اور سمجھوتے کی زنجیروں میں جھکڑی عذاب بھری زندگی کو کسی طرح گزارنے کی ٹھان لیتی ہے. بوڑھے والدین کو ذہنی ازیت سے بچانے کے سبب زندگی بھر اس بے جوڑ اور ناکام شادی کو عمر بھر کی سزا سمجھ کر سہہ جاتی ہیں.

ایسے میں اپنی بزرگی کے فیصلوں کو اعلی اور برتر باور کرانے والے خاندان کے بڑے اپنے کیے کو نصیب کی ستم ظرفی قرار دیکر خود کو بری الا زمہ قرادیتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں