اورنگزیب بلوچ، غریب بچوں کا مسیحا

تحریر سیدنا در بخاری
ترجمہ مصورعلی بلوچ

30 دسمبرکو پکستان پرنس فورم کے زیر اہتمام دوسرے فیملی ایکسپورٹ اور ٹیلینٹ ایوارڈ کی تقریب میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔ یہ تقریب دو روزہ تھی جس کے ساتھ ایک اور تقریب بھی منسلک تھی جس میں بہت سے با صلاحیت لوگوں کو ان کی تعلیمی اور انسانی خدمات کے اعتراف میں نیشینل ایوارڈ دیئے گئے۔ اورنگ زیب بلوچ ان میں سے ایک تھا جسکو اسٹریٹ چلڈرن کےلئےاسکول بنانے اور انہیں تعلیم دینے کے لئے نیشینل ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بدقسمتی سے اس سبق کو کہ “تعلیم دنیا میں سب سےطاقتور ہتھیار ہے” ہمارے پالیسی میکر کی طرف سےہر دور میں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے. حکومت نےپکستان بھر میں تعلیمی ترقی کے بارے میں خاطر خواہ اقداما ت نہیں کیئے۔ لیکن پا کستان میں ایسے افراد کثیر تعداد میں موجود ہیں جہنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان لوگوں تک علم اور بہارش پہنچائ ہیں جو مالی استعداد نہیں رکھتے اور اورنگ زیب ان پرعزم لوگوں میں سے ایک ہے۔ جس نے کم عمری میں ایک ایسا قدم اٹھایا جس کی ہمت کچھ لوگوں کو ہی ہوتی ہے.

26 سالہ اورنگ زیب بلوچ لیاری کا رہائشی ہے۔ اس نے فیڈرل اردو یونیورسٹی سے اور بی کام کی ڈگری حاصل کی۔وہ ایک ایسا اسکول چلاتا ہے کہ جس میں 280ایسے لڑکے اور لڑکیاں پڑھتی ہیں جو دوسری صورت میں میں یاتو بھیک مانگ رہے ہوتے یا کسی گھر میں کام یا پھورکشاپ میں مزدوری کررہے ہوتے.۔ بہت سے ایسے والدین ہیں جو اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ اپنے بچوں کو اسکول بھیج سکیں ۔اور سرکاری اسکولز پر ان کا اعتماد ہی نہیں کہ وہاں بچہ اسکول جائے ان کی بلا سے!
ان بچوں کو یہ نوجوان گلی گلی جاکے تلاش کرکے نہ صرف اسکول لے آکے انہیں تعلیم دیتا ہے بلکہ انہیں یونیفارم، بستے اور اسٹیشنری کا سامان بھی مفت فراہم کرتا ہے۔ اس نوجوان کے اس عزم کو دیکھ کر کئی صاحب ثروت لوگ اس نیک کام میں‌اپنا حصہ بھی ڈالتے ہیں مگر یہ مرد مجاہد کا حوصلہ اس قدر بلند ہے کہ اس ناکافی وسائل کی پرواہ نہیں کرتا اور ڈٹا رہتا ہے.

اورنگ زیب بلوچ نے اپنے والد جو کہ ایک اسکول ٹیچر تھے اور دیگر اہل درد لوگوں سے متاثر ہو کر Students proper Channelاسکول اپنی مدد آپ شروع کیا، شروع شروع میں چند ہی طلبہ آئے مگر جو نہئ وقت گررتا گیا بچوں میں اضافہ ہوتا گیا اور اب اس اسکول سے 280کے قریب بچے مستفیض ہورہے ہیں۔

اورنگزیب ایک ایسے ایسے عظیم مشن پر ہے کہ جس کےبیان کرنے کے لیے میرے الفاظ ناکافی ہیں. اس جیسے نوجوان برسوں میں پیدا ہوتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کے مشن میں اس کا ساتھ دیں اور ہر پلیٹ فارم پر اس کے اس عمل پر روشنائی ڈالتے رہیں. تاکہ اس حوصلہ میں اور اضافہ ہو اور ہم جلد ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل ہوں جو کہ سب کے لیے یکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے بناء نا ممکن ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں