‘لیاری آن دی رائز’، عمیر رزاق کی طرف سے مین اسٹریم میڈیا کو کرارہ جواب ۔۔۔

تحریر:‌مصور علی بلوچ

ایک مرتبہ عمیر رزاق کا مجھے فون آیا کہ وہ ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ اس سے پہلے بھی بھی جب لیاری کے حالات ناگفتہ بہ تھے ہم کئی مرتبہ مل چکے تھے ۔ اور ہماری گفتگو کا زیادہ تر موضوع لیاری ہوتا۔ہم ان لوگوں میں سے تھے جو بعض مرتبہ انتہائی مشکل صورت حال کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ایک تو ہم لیاری میں جاری ابتر صورت حال کے خلاف تھے اور دوسرے ہم مین اسٹریم میڈیا سے بھی نالاں تھے.

وجہ یہ تھی کہ اس ابتر صورت حال کا شکار پورا کراچی تھا مگرمین اسٹریم میڈیا کو اس دوران صرف لیاری اور کٹی پہاڑی کی فکر کھائے جا رہی تھی ۔ کیونکہ دیگر علاقوں کی سفاکی کی خبریں دینے سے انکے ناپ کی بوری تیار ہوجایا کرتی تھی ۔ مگر پھر بھی انکو اگر “خطر ناک ” نظر آتے تھے تو لیاری میں اور پھر وہ بے دھڑک انکے خلاف لکھتے اور خبریں بھی نشر کرتے ۔۔۔۔۔۔اس بات کا ذکر آگے چل کر کریں گے .

تو ہم عمیر کے کہنے پر ان سے ملنے چلے گئے تو انہوں نے ہمیں ایک فائل تھمادی ، یہ انکے ان آرٹیکلز کا ایک سیٹ تھا جو ہفت روزہ انگریزی جریدے “سوشل ٹریک ” میں چھپ چکے تھے ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ عمیر رزاق ایک بہت اچھا لکھاری ہے، اسکے حساس ہونے کے تو ہم پہلے ہی قائل تھے ، اب ہم انکی تحریر کے بھی گرویدہ ہوگئے ۔ وہ ہمیں کسی طرح سے بھی نو آموز لکھاری نہیں لگے ۔ ” لیاری کی ادھوری کہانی ” کے مصنف رمضان بلوچ صاحب جنہوں نے اس کتاب کا دیباچہ تحریر کیا لکھتے ہیں

“UMAIR RAZZAQ ENUMERATES HIMSELF AS A “FIRST-TIME AUTHOR ” . BUT TO ME , THIS NARRATION ONLY SHOWS HIS SENSE OF HUMILITY.MAY BE FIRST TIME HE JOINS THE TINY LYARI CLUB OF AUTHORS NOW BUT BEING A “CITIZEN JOURNALIST” AND A REGULAR WRITER IN THE ENGLISH-LANGUAGE WEEKLY “SOCIAL TRACK” KARACHI , HE HAS AUTHORED A HUGE NUMBER OF ARTICLES , ESSAYS AND REPORTS THAT MAKE HIM ALREADY A RECOGNIZED WRITER.”

جی ہاں ! ہم سمجھتے ہیں کہ جو آرٹیکلز عمیر نے ہمیں دکھائے تھے وہ اس دور کے تھے کہ جب انہوں نے ابھی نئے نئے اس جریدے کے لیئے لکھے تھے لیکن اس وقت بھی انکی تحریر معیار کے لحاظ سے اونچے درجے کی تھی ۔ مجھے یاد ہے میں نے عمیر سے کہا تھا عمیر اللہ تمہیں بہت کامیاب کرے گا ، لکھتے رہو کیونکہ لیاری کو تخلیق کاروں کی ضرورت ہے ، لکھاریوں اور بیورو کریٹس کی ضرورت ہے۔

عمیر کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر میں حیران بالکل نہیں تھا کیونکہ پتہ نہیں کیوں مجھے اس لمحے کی پہلے سے توقع تھی ۔ لیکن عمیر کے والد کی کیفیت اور خوشی دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ مت پوچھیئے کیونکہ عمیر رزاق اپنی مخصوص طبیعت کی وجہ سے کہیں پر ٹک کر پڑھاتا نہیں تھا ، وہ کج روی کو شروع ہی سے قبول نہیں کرتا تھا ، اسکی طبیعت کے لا ابالی پن اور جذباتیت کو دیکھ کر میں اسے اکثر “اینگری ینگ میں ” اور “مس فٹ” کہہ کر پکارتا اور وہ ہنس پڑؑتا ۔۔والد اسکے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پریشان رہتے اور لیاری کے ماحول میں اسکے “بے دھڑک ” سچ بولنے کی عادت بھی بعض اوقات انکے لیئے پریشانی کا باعث بنتی ۔ آج اسکی کتاب کی رونمائی کے دن وہ اپنے بیٹے کی پذیرائی پر حیران تھے شاید اور فرط جذبات سے انکی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔۔شاید آج عمیر رزاق بھی کافی عرصے کے بعد ان سے گلے ملا تھا ، پھر کیا تھا ، آنسو تھے ، ہچکیاں تھیں اور وہ اپنے والد سے لپٹا ہو تھا ، جیسے اسے باور کروارہا ہو، ابو میں ویسا نہیں تھا جیسا آپ سوچتے تھے ، میں آپکو لمحاتی خوشیاں نہیں بلکہ مستقل خوشیاں دینا چاہتا تھا اور والد جیسے کہہ رہے ہوں عمیر بیٹا تو نے میرا سر فخر سے بلند کردیا ہے ، عمیر آج سب لوگ تمہاری وجہ سے میرے احترام میں کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اف کیسا جذباتی منظر تھا !!!!!

یہاں اگر میں عابد بروہی صاحب کی تعریف نہ کروں تو بہت زیادتی ہوگی کیونکہ آج عمیر کو اس مقام تک پہنچانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ، ہمیشہ اسکے غصے کو کنٹرول کرنے میں اور اسکو مقصد میں بدلنے میں اسکا ساتھ دیا ۔۔۔۔

اس کتاب کے بہت سے آرٹیکلز میں نے پہلے بھی پڑھے ہیں لیکن اس کتاب کے اندر عمیر نے اصل میں ایک سستے اخبار اور مین اسٹریم میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا کہ “گینگ وار ” کے دور میں تو وہ لیاری کا شمار وزیرستان جیسے علاقوں سے کرتے تھے تو کبھی سوات سے ۔۔۔۔پورے کراچی میں سب سے زیادہ خوف اور دہشت انکو لیاری میں نظر آتی تھی لیکن 2015،206،اور 2017 میں امن کے قیام کے لیئے جو جدوجہد کی اور لیاری میں مثبت سرگرمیوں کا از سر نو اجراء کیا ، وہ کیوں انکی نظر میں نہیں آتا ۔ لیاری میں مثبت پن انکو تب بھی نظر نہیں آتا تھا اور آج بھی وہ بے اعتنائی برت رہے ہیں ۔ یہ کتاب لکھ کر گویا عمیر نے مین اسٹریم میڈیا کو یہ پیغام دیا کہ تم ہمیں پروموٹ نہ کرو ۔ ہم اپنے آپ کو پروموٹ کرنا جانتے ہیں ۔۔۔۔۔اور نوجوانوں کو پیغام دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم لیاری کا مثبت پن لوگوں کو خود دکھائیں تاکہ ایک کوشش جو ہورہی ہے لیاری کو معاشی لحاظ سے کمزور کرنے کی وہ ناکام ہو ۔۔۔۔۔

عمیر نے اس موقع پر جو تقریر کی وہ مختصر تھی مگر اسکے اندر درد تھا ،گلہ تھا اور چیلنج بھی کہ اگر ڈان اخبار اسی طرح لیاری کو وزیرستان سے ملائے گا اور لوگوں کے اندر خوف پھیلائے گا تو اسکا جواب اسی طرح اسی زبان میں آئے گا کہ جس زبان کا وہ اخبار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر رزاق بھی ہانی بلوچ کی طرح بارش کا پہلا قطرہ ہے ۔۔۔لیاری کے نوجوانوں نے اب ایک اور “گینگ ” بنالیا ہے ۔۔۔۔۔جسے شاید کل ہمارا نام نہاد ” مین اسٹریم میڈیا ” قلم گینگ ” کا نام دے کر ہمارے تخلیق کاروں کا مذاق اڑائے۔۔۔۔۔۔مگر یاد رہے سوال قلم سے اٹھے گا تو جواب بھی قلم سے آئے گا ۔۔۔۔اور اگر سوال کیمرے کے سامنے اٹھایا گیا تو جواب بھی کیمرے کے سامنے سے آئے گا۔۔۔۔۔۔کیونکہ لیاری میں ہانی بلوچ ہے ، عمیر رزاق ہے اور بہت سارے ہانی اور عمیر “پائپ لائن ” میں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آپکو جواب ایسا ہی کرارہ ملے گا جیسے عمیر نے “لیاری آن دی رائز” لکھ کر دیا !!!!