لیاری کی کم عمر سوشل ورکر اور ان کے والد عبدالواحد سے ملاقات

لیاری کی کم عمر سوشل ورکر اور ان کے والد عبدالواحد سے ملاقات

عظمت کے نشان ان ھستیوں سے مل کر دل کو جو خوشی میسر آئی وہ بیان سے باھر ھے۔ کل شام لیاری کے ایک ایسے ادبی گھرانے کے سربراہ جناب عبدالواحد بلوچ کامریڈ اور ان کی بیٹیوں سے ملاقات کا شرف حاصل ھوا۔ کامریڈ صاحب کے کتابوں سے آراستہ بھیٹک میں جس میں اردو انگلش اور بلوچی کی بہترین کتابیں موجود تھیں ھمیں کچھ دیر کے لئے یوں لگا ھم کسی چھوٹی لائبریری میں آگئے ھیں۔
عبدالواحد بلوچ صاحب کو ادب سے گہرا لگاؤ ھے۔ ان کے پاس کئی چوٹی کے ادیبوں و دانشورں کی کتابیں موجود ھیں۔
کراچی اور لیاری کے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں پر سیر حاصل گفتگو کے دوران ھم پر یہ آشکار ھوا۔ کہ موصوف کی تینوں بیٹیاں اپنا تعلیم جاری کرنے کے ساتھ ساتھ محلے کے نادار بچیوں اور بچوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی ھیں۔ ان بچوں اور بچیوں کی تعداد لگ بگ 50 ھے۔ عبدالواحد صاحب کی بیٹی مائین بلوچ نے اس کم عمری میں اس جذبہ اور محنت سے اپنے مشن کو آگے بڑھایا اسے میں سلام کرتا ھوں۔
مائین بلوچ نے ھمیں بتایا کہ انہوں نے مستاگ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی ھے۔ جو تعلیم وتربیت۔ لٹریچر و ادب۔ ثقافت و فنون موسیقی و آرٹ میں اپنا کام جاری کئے ھوئے ھیں۔
لیاری کی کم عمر سوشل ورکر اور ان کے والد عبدالواحد سے ملاقات
مائین بلوچ اپنا گریجویشن کر رھی ھیں انہیں آرٹ و تھیٹر سے گہرا لگاؤ ھے۔ وہ کئی تقریری مقابلوں آرٹ و ثقافت کے میدان میں کامیابی حاصل کر چکی ھیں وہ ایک اچھی تھیٹر آرٹسٹ ھیں۔ تھیٹر کے مقابلہ میں پورے کراچی میں پھلی پوزیشن حاصل کرچکی ھیں۔ وہ بہت سے ایوارڈ اور سرٹیفکٹ اپنے نام کر چکی ھیں۔ ان کی کوشش یہی ھے کہ ان بچیوں اور بچوں میں وہ ٹیلنٹ پیدا کیا جائے جس سے وہ اپنا مستقبل روشن کر سکیں۔
ھماری دعائیں اور ساتھ ھمیشہ ان کے ساتھ رئیگا تاکہ جس بے مثال مشن پر وہ ھیں وہ کامیابی سے ھمکنار ھو۔ اس ضمن میں میں نے مستاگ فاؤنڈیشن کے بورڈ کے ادنا ممبر کی حیثیت سے اپنے خدمات پیش کی ھیں۔