لیاری کی ماریہ بلوچ! ہے تو تیرہ سال کی مگر باکسنگ رنگ میں اتر کے سب کو حیران کردیتی ہے.

mariya baloch

 مصور علی بلوچ

تیرہ سالہ ماریہ بلوچ شاہ بیگ لائن کے ایک غریب گھر میں پیدا ہوئیں ۔ ماریہ کے خاندان نے لیاری کو بہترین فٹ بالرز دئیے ۔ ماریہ نے 4 سال کی عمر میں فیصلہ کرلیا کہ اسے محمد علی کی طرح باکسر بننا ہے ۔ پھر کیا تھا ماریہ اسکول سے آتی تو اپنا بیگ پھینک کر باکسنگ کی پریکٹس کرنے لگ جاتی اور اسی عمر میں کوچنگ جانا شروع کیا اور اپنے مکے کے ایسے گر دکھائے کہ جلد ہی مقابلوں کیلئے اسے چن لیا گیا ، اب ماریہ مقابلے کیلیئے جہاں بھی جاتی ہے ایوارڈ اپنے نام کرجاتی ہے ۔

ماریہ کا انداز انتہائی جارحانہ اور متوازن ہونے کی بنا پر بہت سے اداروں نے اسے اپنا اعزازی باکسر بنایا مگر مستقل نوکری دینے سے گریز کرتے رہے۔ حبیب بنک کراچی کے کرتا دھرتاؤں نے بھی ماریہ سے رابطہ کیا اسے پہلے اعزازی باکسر بنانے کی آفر کی اور بعد میں اس سے وعدہ کیا گیا کہ اسے مستقل حبیب بنک کے باکسر کے طور پر جاب دی جائے گی مگر “وہہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا” کے مصداق تغافل میں مبتلا ہوگئے ۔ بہت سی تقریبات میں بہت سے سیاست دانوں نے بھی اس معصوم کو سبز باغ دکھائے اور اسکا پھول سا نازک دل بہار کے انتظار میں کملائے جارہا ہے ۔ ماریہ مایوس ہوتی جارہی ہے کہ اسے لگتا ہے کہ غربت اور مفلسی اسکی تعلیم اور شوق میں رکاوٹ ہے ۔ غریب والدین اسکے لیئے اسپورٹس کا سامان ، جوتے اور خوراک کا بہتر انتظام نہیں کر سکتے جو کہ ایک اسپورٹس مین کی ضرورت ہے ۔ اسلیئے ماریہ بلوچ نے وزیر سپورٹس ، وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے کسی سرکاری ادارے میں اسپورٹس کی ووکینسی پر بھرتی کیا جائے تاکہ وہ اپنی پڑھائی اور شوق کو موثر انداز میں جاری رکھ سکے۔ آجکل ماریہ بلوچ کی وڈیو وائرل ہے اسے یو ٹیوب اور فیس بک پر ڈھونڈا جا سکتا ہے.

اس وڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ماریہ کیسے ماہرانہ باکسر کی طرح مکہ چلاتی ہے ۔ ماریہ کا باکسنگ کا انداز کسی ماہر مکے باز سے کم نہیں ہے بس ضرورت اس امر کی ہے کہ لیاری کی ان نوجوان لڑکیوں کو کہ جنہوں نے باکسنگ کو بطور کھیل اپنایا ہے بہت سی مخالفتوں کے باوجود، مایوس نہ کیا جائے ان چند لڑکیوں کے مستقبل کو محفوظ بناکر گرلز باکسنگ کو مزید فروغ دیا جاسکتا