ایک نظر لی مارکیٹ پر بھی

تقسیم ہند سے قبل جب انگریزوں کی حکومت تھی، لی مارکیٹ کی حدود میں دو بڑے حوض ہوا کرتے تھے جن کی وجہ سے یہ علاقہ میٹھاواڑہ کے نام سے مشہور تھا جو بعد میں جاکے میٹھا در کہلانے لگا. اس علاقے کو تاریخی تجارتی مرکز ہونے کا اعزاز حاصل ہے. یہاں کراچی کی پہلی سبزی منڈی واقع تھی. کراچی بھر میں یہاں سے سبزیاں اور فروٹ کی سپلائی ہوتی تھی. چونکہ سبزی منڈی لیاری کی حدود میں تھی جس کی وجہ سے لیاری سے لوگوں کی بڑی تعداد یہی سے سودا سلف کی خریداری کرتے تھے.

1930 میں کراچی میونسپلٹی نے اسے نئی شکل دی یعنی یہاں عالی شان مارکیٹ کی عمارت تعمیر کرائی اور اور میونسپل کمیشن کے ایک انجینیئر مسٹر میشام لی کے نام پر اسے لی مارکیٹ کا نام دیا گیا. یہ مارکیٹ صدیق وہاب روڈ، نیبپیئر روڈ، شیدی ویلیج روڈ اور ندی روڈ کے چوراہے پر واقع ہے.

لی مارکیٹ کے اطراف میں زیادہ تر عمارات 1860ء سے 1930 ء کے درمیانی عرصے میں تعمیر ہوئی تھیں. ان عمارات میں سرفہرست 1920ء میں تعمیر ہونے والی کھتری الیاس قاسم برادرز کی وہ عمارت ہے جس کے سامنے 1943ء میں کھتری جماعت کے خزانچی قاسم سیٹھ اور ہاشم ہارون نے قائد اعظم محمد علی جناح کے جلوس کو روک کر مسلم لیگ کے فنڈ میں ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی پیش کی تھی. قیامِ پاکستان کے بعد لی مارکیٹ نے خریدوفروخت کے ایک بڑے مرکز کی شکل اختیار کی.

اس مارکیٹ کی عمارت اپنی مثال آپ تھی. اردگرد تجاوزات نہ ہونے اور کثیر المنزلہ عمارتیں نہ ہونے کے باعث اس کا گھڑیال ٹاور دور دور سے نظر آتا تھا

تصویر: سید احسان شاہ

جو کہ اب مناسب توجہ نہ ہونے کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے. ماضی میں لی مارکیٹ کے صحن میں سبزہ زاراور پارک ہوا کرتا تھا. جس کے درمیان میں ایک خوبصورت فوارہ نصب کیا گیا تھا. وقت کے ساتھ ساتھ تجاوزات میں اضافہ ہوتا گیا اور پارک کا نام و نشان مٹ گیا. اب اس پارک کی جگہ پر بھی دکانیں تعمیر کی گئی ہیں. اب عالم یہ ہے کہ اس مارکیٹ کے چاروں اطراف سبزی ، فروٹ اور پرچون وغیرہ کی لاتعداد دکانیں اور اسٹال بنائے گئے ہیں جن میں سے اکثر پر قبضہ مافیہ قابض ہے.
لی مارکیٹ کے اطراف میں تانگہ اسٹینڈ ہوا کرتاتھا. جو آج کل چنگ چی رکشوں کے اسٹینڈ کی شکل اختیار کرگیا ہے.

لی مارکیٹ کے بعد اور پہلے کی کئی مارکیٹیں جدت کے ادوار سے گزری اور کئی کو قومی ورثہ قرار دیا گیا. لیکن اس بدبخت مارکیٹ کو قومی ورثہ قرار دینا تو دور کی بات اس کی طرف دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا گیا. 2001 میں لی مارکیٹ کو ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت لیاری ٹاؤن کے حدود سے نکال کے صدر ٹاؤن میں شامل کیا گیا. آج کل لی مارکیٹ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ضلع جنوبی کی حدود میں ہے. اور اسی طرح نظر انداری کا شکار ہے.

لی مارکیٹ کو لیاری والوں سے بھی شکایت ہے جنہوں نے کسی سطح پر بھی اس کی جدائی پر آواز بلند نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسی کوشش کی جس سے اسے دوبارہ لیاری ٹاؤن میں شامل کیا جاتا.

اب لی مارکیٹ ہے اور اس کی حسین یادیں ہیں یا پھر اس کے اردگرد بے ہنگم تجاوزات، چیختی چلاتی ٹریفک جام، ہنگامہ خیز زندگی جہاں نفسا نفسی کا عالم ہے. ایسے عالم میں کسی کے پاس اتنا وقت کہاں جو لی مارکیٹ جیسے تاریخی ورثہ کی طرف دیکھے اور اس کی حالت پہ رحم کرے.
تحریر : شبیر احمد ارمان (کالم نگار ایکسپریس)