لیاری کراچی کا مشہور ترین خطہ ہے

Lyari

لیاری کراچی کا مشہور ترین خطہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خطہ زمین ہی کراچی ہے کیونکہ یہ دور آغاز ہی سے کراچی کا رفیق ہے، لیاری ندی دراصل دریا ہے مگر چونکہ مقامی آبادی سمندر کو دریا اور دریا کو ندی کہتی تھی لہذہ کوسوں دور سے بہتا چلا آرہا یہ دریا ندی کہلایا اور کہلاتا ہے، یہ ندی یا دریا جوں جوں سمندر سے قریب ہوتا گیا اسکے دونوں جانب لئی کے خود رو درخت اگتے گئے، لئی کے درختوں کی کثرت کے سبب سندھی زبان میں یہ علاقہ” لئی واری ” یعنی لئی والی جگہ کہلایا، لئی واری گزرتے وقت کے ساتھ ” لیاری ” بن گیا ۔ لیاری کو لیاری کہے جانے کا سبب بنے ان درختوں کی شاخیں گھریلو مصنوعات جیسے ٹوکریے اور چھلیاں بنانے کے کام آتی ہیں، جھگیوں کی چھت بھی ان جھاڑیوں سے بنائی جاتی ہیں جو تیز دھوپ میں چھت کو تپنے نہیں دیتی – یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ندی کے کناروں پر جمی زردی مائل سرخ مٹی بھی اس نام کا محرک بنی کیونکہ زردی مائل سرخ رنگ سندھی زبان میں لئاری کہلاتا ہے جس سبب آگے چل کر لیاری کا نام اختیار کر گیا، ندی ہی کے راستے میں آتے پیلو کے درخت بھی تھے، پیلو مقامی زبان میں ملاپ اور یاری کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، یاری کا لفظ بھی لیاری کہلانے کا محرک ہوسکتا ہے مگر نہ ہو تو بھی کیا ؟ لیاری ہے تو یاروں یعنی دوستوں کی سرزمین ۔

لیاری ندی اور اسکے پانی کے سبب یہ علاقہ زراعت پیشہ لوگوں کے لئے پرکشش تھا، ماہرین آثار قدیمہ نے دستیاب معلومات سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قریباً 4000 ہزار سال قبل یہ علاقہ زراعت پیشہ لوگوں سے آباد تھا، مگر اسکی آبادِ نو کی منزل کراچی کی بندرگاہ کی دریافت کے بعد کی ہے، جب یہاں آنے اور رہائش اختیار کرنے والے والے زراعت کے لئے نہیں بلکہ مزدوری کے لئے آکر آباد ہوئے ۔ سنہ 1730 تک سیٹھ بھوجومل سندھ کے بیوپاریوں کے ساتھ کیماڑی کی بندرگاہ دریافت کرکے کراچی آچُکے تھے بندرگاہ کی شہرت سن کر بلوچستان سے اولین طور پر پو جو لوگ آئے وہ ماہی گیر تھے جنکو لئی کے درختوں والی جگہ بھاگئی اور ان درختوں کے جھنڈ میں ان بلوچ ماہی گیروں کی 20 سے 25 جھگیاں آباد ہوگئیں، گویا یہ طے ہوا کہ لیاری کو ابتدا میں مسکن بنانے والے اور پھر آباد کرنے والے اور اسکے بعد ایک مخصوص ثقافت کا رنگ عطا کرنے والے بلوچ ہیں، اسی لئے بلوچ لیاری سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور اسے اپنی دھرتی ماں قرار دیتے ہیں –

کھارادر میں جہاں آج مچھی میانی مارکیٹ ہے وہاں سندھی ماہی گیروں کی جھگیاں تھیں، 1870 میں اس جگہ مارکیٹ کی تعمیر کے لئے ان ماہی گیروں کو وہاں سے ہٹایا گیا اور لیاری میں موجود برساتی پانی کی گزرگاہ سے بنے ایک کھڈ کی بھرائی کرکے وہاں آباد کرایا گیا یہ علاقہ کھڈا کہلایا بلوچوں کے بعد یہ دوسری بڑی آبادی تھی جو لیاری میں قیام پزیر ہوئی آبادی بڑھنے کے ساتھ دیگر برادریوں کی آمد شروع ہوئی جن میں کچھی، اوکھائی میمن، پٹھان، میانوالی یہ سب قدیمی طور ہر لیاری میں آنا شروع ہوگئے تھے، 1946 میں بہار میں ہوئے فسادات کے سبب پیر الہی بخش صاحب کی کوششوں سے وہاں سے آئی بہاری برادری کو باقاعدہ سے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر لیاری میں آباد کرایا گیا، پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہجرت کرکے آئی برادریوں نے لیاری میں پہلے سے موجود اپنی برادریوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی، آگرہ سے آئی اردو اسپیکنگ برادری نے بھی لیاری کو مسکن بنایا، اسی طرح سے شہر کی اقتصادی ترقی نے بلوچستان میں بسے کسی زمانے میں افریقہ سے غلام کی صورت میں لائے گئے شیدی بلوچوں کو ترغیب دی کہ وہ شہر میں آکر مزدوری کرکے اپنے رزق کا سامان کریں جو نہ صرف یہ کہ لیاری کا حصہ بنے بلکہ نمایاں حصہ بنے ۔ یوں لیاری مختلف برادریوں کے کلچر سے سجا ایسا گلدستہ بن گیا جس کا نمایاں پھول بلوچ اور نمایاں خوشبو بلوچ ثقافت ہے ۔

لیاری چست لوگوں کی چست سرزمین ہے جہاں کے محنت کش سدا بہار اور منکسرالمزاج ہیں، یہاں فٹ بال، باکسنگ اور سائیکلنگ کی دنیا ہے اور یہاں موسیقی اور سروں سے والہانہ لگاؤ کی ایسی ثقافت ہے جسکا اظہار پورے کراچی میں اور کہیں نظر نہیں آتا ۔

تعلیم یافتہ لوگ لیاری میں ” تعلیم آفتاب ” کہلاتے ہیں، دیکھا آپ نے لیاری کے لوگ غلط کہہ کر بھی کتنا صحیح کہہ جاتے ہیں، تعلیم کو روشنی اور وہ بھی سورج کی روشنی سے تشبہیہ دینا انکی فطری زہانت کی عکاس ہے ۔

جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں

آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں

لیاری میں موسیقی اور آرٹ سے محبت کے سبب ہوٹلوں سے گانوں کی صدائیں بھی آتیں تھیں اور شادی بیاہ اور دیگر مواقع پر پاکستان کے صف اوّل کے فنکار بلوچ قوم کی فن اور فنکار دوستی کی قدر کرتے ہوئے حاضری دیتے تھے، اسی علاقے کو استاد بڑے غلام علی خاں صاحب کی حاضری کا شرف حاصل ہے، ایسا نہیں کہ فن کے استادوں کی یہ حاضری اشرافیہ کے ایوانوں میں ہو، یہ حاضری محنت کش اور غریب آبادی میں ہوتی تھی اسلئے کہ فن اور موسیقی سے انکی حد درجہ محبت کے سبب انکے لئے یہی ایوان اشرافیہ تھا، یہاں فٹبال کی آباد دنیا کے سبب پاکستان کی فٹبال ٹیم گویا یہیں رہتی تھی، فٹبال سے محبت کا یہ عالم تھا پہلے کھلاڑی، پھر ریفری پھر کوچ اور آخر میں میدان ہی کو اوڑھنا بچھونا بنا لینا آنکھوں دیکھی بات ہے، عموماً نام کے ساتھ بخش لگتا ہے، اللہ بخش، رسول بخش، پیر بخش، مولا بخش، لال بخش اور اسطرح کے نام فٹبال میچ کی کمینٹری کے درمیان کمینٹری کرنے والوں کو چکرا دیتے تھے، یہاں کی آباد باکسنگ اور سائیکلنگ کی دنیا بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کروانے کا سبب بنی ہے، یہاں بانسری اور ہارمونیم بجانے والے اسٹریٹ فنکار اور بلوچی دھنوں پر والہانہ اور دیوان وار رقص کرنے والے محبت بھرے دل رہتے ہیں، یہیں ہم جیسے تعلیم آفتاب ( تعلیم یافتہ ) کہلاتے لوگ گلی محلے میں بیٹھے بلوچوں سے جب کوئی سوال پوچھیں تو جواب میں ہاں نہیں بلکہ ” جی ہاں ” کی صدا انکی انکساری اور تعلیم دوستی کی عکاس ہوتی ہے، اسی لیاری میں جرائم کی دنیا بھی تھی، ہر طرح کا نشہ اور مارفیا کے انجیکشن بھی یہیں ملتے تھے مگر احترام اشراف اور احترام نساء ایک ایسی صفت ہے جو لیاری اور اسکے لازم و ملزوم بلوچ کلچر کی ایک نمایاں خوبی کے طور پر بدترین حالات میں بھی برقرار رہی اور ہمیشہ رہیگی ۔

‎اُن کی نظروں میں مجسّم دل ہوا جاتا ہوں میں
‎اب تو خود ہی ناز کے قابل ہوا جاتا ہوں میں