محنت کبھی خالی نہیں جاتی!

یہ کہانی علی نامی ایک ایسے لڑکے کی ہے۔جس کی سوچ ،افعال اور کوششیں دوسروں سے کچھ مختلف تھیں ۔علی اپنے معاشرے کو بہتر سے بہتر بنانے کی سوچ اور کوششوں میں ڈھوبا رہتا تھا۔کبھی وہ کسی کی مدد کرکے دوسروں کو مدد کرنے کی تاکید کرتا تو کبھی اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا بنانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرتا ۔لیکن افسوس کہ اس کے اس جذبے کو ئی سمجھ نہیں پایا تھا اور نہ ہی کوئی سمجھنا چاہتا تھاکیونکہ علی جس معاشرے کا حصہ تھا وہاں کے لوگ ایک نہایت ہی پست سوچ کے مالک تھے اور اسی کو اپنا مقدر بنا کر جی رہے تھے کہ یہاں نہ کچھ بدلاؤ آیا ہے اور نہ ہی آئے گالیکن علی یہ کہتا تھا کہ جب تک ہم خود اپنے حالات نہیں بدلنا چاہینگے تو خدا بھی ہم پر رحم نہیں فرمائے گا ۔
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال اپنے شعر میں کیا خوبصورت بات کہتے ہیں کہ :
خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی!
نہ ہو جسے خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا۔
پس یہی بات لیکر علی اپنی محنت جاری رکھتا اور وہ ہمیشہ اپنے قول و فعل سے لوگوں تک کوئی نہ کوئی بہتری کا پیغام پہنچا تا رہتاتھا جس سے معاشرے میں کچھ نہ کچھ بدلاؤ آسکے۔
ایک مرتبہ علی اپنی گلی کی صفائی کرنے میں مصروف تھا ،گلی کے کونے بیٹھے چند نوجوان اسے تنگ کرنے لگے اور طرح طرح کے غیر اخلاقی ناموں سے اسے پکارنے لگے۔چونکہ یہ روز مرہ کا معمول بن چکا تھا ،علی کو اس بات سے کوئی پرواہ نہ تھی کہ کون کیا کہتا ہے اور لوگ اسے کیا سمجھتے ہیں لیکن ہاں وہ اس بات کی تلقین ضرور کرتا تھا کہ “اگر کچھ اچھا نہیں کر سکتے تو کچھ بگاڑو بھی مت”اور یہی بات علی کو نہایت غصہ دلاتی تھی اور اس دن علی کے اندر مایوسی کی وجہ بھی یہی بات بنی۔کیونکہ جب وہ اپنی مصروفیت سے فارغ ہوا تو اس نے دیکھا کہ لوگ دوبارہ اسی جگہ گندگی پھلا رہے ہیں جس جگہ کو علی نے بڑی محنت سے صاف ستھرا بنایا تھا۔اس عمل سے علی کی نہایت حوصلہ شکنی ہوئی اور وہ کچھ مایوسی کا نشانہ بن گیا۔کچھ عرصے بعد علی کی ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے ہوئی جو اس کے جذبے کی بہت قدر کرتے تھے اور پھر انہوں نے علی کوبتا یا کہ تم ایک نہایت نیک کام سر انجام دے رہے ہو اور اسے سمجھایا کہ “جب دوسرے غلط کام کرنے میں کتراتے نہیں ،تو تم کیوں ہمت ہا ر رہے ہو” ،اور اسے ایک مثال دی کہ “زہر ہمیشہ فوری اثر دکھاتا ہے جبکہ دوا وقت لیتی ہے مگر اسکا اثر دیر پا ہوتا ہے۔لہٰذا اپنی محنت کو جاری رکھو ،ہمیں امید ہے کہ تمہاری محنت ضرور رنگ دکھلائے گی کیونکہ:
محنت کبھی خالی نہیں جاتی !

یہ سب سن کر علی دوبارہ اپنی کوششوں میں مصروف ہوگیا اور کرتے کرتے لوگ اسکے ساتھ جڑنے لگے ہیں اس طرح علی کا حوصلہ اور بھی بلند ہونے لگا۔علی اپنے ساتھیوں سے اکژکہتا تھا کہ میں نے کہیں ایک شعر پڑھا تھا ،وہ شعر میری زندگی کی سچائی بیان کرتا ہے کہ:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر،
لوگ ساتھ آتے گئے کارواں بنتا گیا !
یہاں تک تو سب کچھ ٹھیک تھا لیکن علی کے کچھ ساتھی اس سے خوش نہیں تھے کیونکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ ہم جو کچھ بھی اچھا کام کریں ہمیں شہرت حاصل ہو اور ہمارا نام بنے اور وہ یہ سوچتے تھے کہ علی ہم سے کام نکلوا کر خود شہرت حاصل کر رہا ہے جبکہ علی کے وہم و گمان میں اس سوچ کا دور دور تک نام و نشاں نہ تھا ۔علی کے ان ساتھیوں کا غصہ اور انکے اند ر علی کے لیے جلن دن بہ دن بڑتی گئی لیکن علی اس سے بے خبر تھا کہ اس کے ساتھیوں کے ذہنوں میں ایسی سوچوں نے جگہ لے لی تھی۔علی کے ساتھیوں نے اسے ذہنی تکلیفیں دینا شروع کردیں کہ”علی !تو صرف مفاد پرست انسان ہے ،تجھے کوئی انسانیت کا درد نہیں ،توصرف نام اور شہرت کمانا چاہتا ہے”یہ سب دن بہ دن بڑتا گیا اور کرتے کرتے علی دماغی طور پر کمزور ہو گیا ۔
علی اس بات کو لیکر ایک گہری سوچ کا شکار ہوگیا تھا کہ میں تو اوروں کی بھلائی کے لیے نکلا تھا یہاں تو اپنوں نے ہی گرا دیا اور وقت کے ساتھ ساتھ علی ان سب کاموں سے دور ہونے لگا ۔اور پھر وہ سارے کام علی نے چھوڑ دیے جو وہ لوگوں کی بھلائی اور معاشرے میں سدھار لانے کے لیےکام کیا کرتا تھا ۔اور ان سب باتوں کو ایک یادوں کی صندوق کے ساتھ ایک عام انسان کی طرح اپنی زندگی بسر کرنے لگا۔
علی کی گلی کے کچھ نوجوانوں نے یہ سب غور کرنا شروع کیا تو انکے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہواکہ”وہ لڑکا جو کبھی کسی کی مدد کرنے سے مونہ نہیں موڑتا تھا ،جو کبھی اپنے گھر کا کچرا کوڑا دان کے علاوہ کہیں پھینکتا نہیں تھا ،وہی لڑکا آج وہ سارے کام کر رہا ہے جو وہ دوسروں کو کرنے سے روکتا تھا ،آخر ماجرہ کیا ہے؟تحقیق کرنے پر جب بات پتہ لگی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم علی کا ساتھ دینگے ۔
اگلے دن علی اپنا بستہ لیکر اپنی پڑھائی کے لیے گھر سے نکلا تو اپنے گھر کا کوڑا لاکار گلی کے کونے پھینک دیا،جبکہ علی نے اپنے ماضی میں ایسا کرنے سے دوسروں کو بھی منع کرتا تھا ۔جب علی تھوڑا آگے نکلا تو اس نے کچھ حل چل سی محسوس کی وہ جیسے ہی پلٹا تو اس نے دیکھا کہ کچھ نوجوان مل کر اس جگہ کو صاف کر رہے ہیں ۔علی یہ سب دیکھ کر حیران ہو گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔صفائی سے فارغ ہونے کے بعد وہ نوجوان اسکے پاس آکر کہتے ہیں کہ :اے علی!اس معاشرے کا حصہ صرف تم ہی نہیں بلکے ہم بھی ہیں ،اسے بہتر بنانے کی ذمہ داری صرف تمہاری نہیں بلکہ ہماری بھی ہے۔
یہ سب سن کر علی کی آنکھیں خوشی سے نم ہو جاتی ہیں ۔اور وہ ان سے گلے لگ کر بے حد خوشی کا اظہار کرتا ہے ۔ تب اسے وہ بات یاد آتی ہے جو اسکے بڑوں نے اس سے کہی تھی کہ :
“محنت کبھی خالی نہیں جاتی !”

تصنیف کردہ:- سعد احمد