چودہ اگست کا پیغام

تحریر: نعیم الرحمان شائق

14 اگست 1947ء کو ہمارا پیارا وطن پاکستان معرض ِ وجود میں آیا۔ یہ وہ عظیم دن ہے ، جس دن مسلمانان ِ ہند کو آزادی ملی ۔ آزادی کی اس تحریک میں بابائے قوم قائد ِ اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ ، شاعر ِ مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ ، سرسید احمد خان ، نواب محسن الملک ، نواب وقارالملک ، مولانا محمد علی جوہر ، مولانا شوکت علی جوہر ، اے کے فضل الحق ، چوہدری رحمت علی اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے قائدین کی انتہائی اہم خدمات ہیں ۔ جو خواب حکیم الامت ، شاعر ِ مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا تھا ، بابائے قوم قائد ِ اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے اس خواب کو شرمندہ ِ تعبیر کیا ۔ پاکستان کی بنیاد “دو قومی نظریہ” پر رکھی گئی تھی ۔ اس نظریے کے بانی سر سید احمد خان تھے ۔ سر سید احمد خان کے قائم کردہ علی گڑھ کالج کے طالب علموں نے تحریک ِپاکستان میں انتہائی اہم خدمات سر انجام دیں ۔ اس طرح مسلمانان ِ ہند کی آزادی میں سر سید احمد خان نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔

پاکستان 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ابھرا ۔ لیکن بد قسمتی سے محض 24 سال بعد پاکستان دو لخت ہوگیا ۔ یعنی یہ دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ۔ اس خطہ ِ پاک کو دو لخت کرنے میں اپنوں کی غفلتیں اور غیروں کی سازشیں کار فرما تھیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تحریک میں بنگلہ دیش کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد ِ پاکستان مولوی اے ۔کے فضل الحق نے پیش کی تھی ۔ ان کا پورا نام ابو القاسم فضل الحق تھا ۔ وہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے تھے ۔ بنگالی لہجے میں ان کا نام “ابو الکاشم فضل الحق” تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نام میں” اے ۔ کیو” کی جگہ “اے ۔کے” استعمال ہوتا ہے ۔

14 اگست کا پیغام کیا ہے ؟ اس عظیم دن کا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ۔ انتشار سے بچیں ۔ ہر قسم کے تعصبات کو بھول جائیں ۔ دشمن ہمارے درمیان قومیت ، صوبائیت ، فرقہ واریت کی بنیاد پر انتشار اور نا اتفاقی پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ دشمن کی یہ چال سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو متحد کر لیں ۔ ہمارے درمیان اسلام کا رشتہ ہے ۔ اسلام اتحاد کا درس دیتا ہے ۔ اگر ہم حقیقی اسلام پر عمل پیرا ہو جائیں تو خود بہ خود ہماری صفوں میں اتحاد پیدا ہوجائے گا ۔

14 اگست ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے بڑی محنت اور جد جہد سے پاکستان حاصل کیا ۔ اب ہمارے وہ بزرگ دنیا میں نہیں رہے ۔ یعنی اب ہمیں ہی اس ملک کو سنبھالنا ہے ۔ اس ملک کی ترقی میں ہمیں اہم کردار ادا کرنا ہے ۔ اس خطہ ِ ارضی کو جنت بنانا ہے ۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر قسم کی ‘دو نمبری’ سے بچیں ۔ جب پوری قوم ‘امانت دار’ بن جائے گی تو یہ پاک خطہ خود بہ خود جنت بن جائے گا ۔ ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ ہم کس حد تک اپنے پیارے وطن سے مخلص ہیں ۔ دو کان دار سے لے کر سیاست دان تک ۔۔ کتنے لوگ ہیں ، جو ‘دو نمبری’ نہیں کرتے ۔ بے شک ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔ جب ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں تو ہمار پیارا ملک کیوں کر ترقی کرسکتا ہے ؟

14 اگست ہمیں پیغام دیتا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے ۔وہ نظریہ کیا ہے ؟ بے شک وہ نظریہ اسلام ہے ۔ بانی ِ پاکستان نے فرمایا تھا کہ ہم پاکستان کو ایک ‘اسلامی تجربہ گاہ ‘ بنانا چاہتے ہیں ۔ لیکن کیا ہم اس اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں ؟ بے شک ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں ، جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں ۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہمیں دنیا و آخرت ، دونوں میں کام یابی حاصل ہوگی ۔ جو لوگ دین اور سیاست ، دونوں کو الگ الگ چیزیں سمجھتے ہیں ، انھیں حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃاللہ علیہ کے درج ذیل شعر میں پنہاں نکتے پر غور کرنا چاہیے :
جلال ِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
جو لوگ اسلام سے خائف ہیں ، انھیں دین ِ اسلام کے بنیادی ذرائع یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا عمیق مطالعہ کرنا چاہیے ۔ بے شک اس طرح وہ دین ِ اسلام کے گرویدہ ہوجائیں گے ۔

میں نے درج بالا تین اقتباسات میں اپنی دانست کے مطابق 14 اگست کے تین پیغامات اور تقاضے تحریر کیے ہیں ۔ ان میں سے پہلا یہ ہے کہ ہم انتشار سے بچتے ہوئے متحدہو جائیں ۔ دوسرا یہ ہے کہ ہم ہر قسم کی ‘دو نمبری’ کو چھوڑ کر اپنے ملک کے لیے مخلص اور اپنے ملک کے لوگوں کے لیے امانت دار بن جائیں ۔ تیسرا پیغام یہ ہے کہ ہم اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں ۔ اگر ہم اس 14 اگست پر اپنے اندر یہ مثبت تبدیلیاں لانے میں کام یاب ہوگئے تو بے شک ہم بہت آگے نکل جائیں گے ۔ اور بہت جلد ترقی یافتہ قوموں میں ہمارا شمار ہوگا ۔